مندرجات کا رخ کریں

افسس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
افسس
Image
 

تاریخ تاسیس 10ویں صدی ق.م  ویکی ڈیٹا پر  (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انتظامی تقسیم
ملک Image ترکیہ (1923–)[1]
ہخامنشی سلطنت (547 ق.م–330 ق.م)
رومی سلطنت (27 ق.م–395)
بازنطینی سلطنت (395–1090)
Image سلطنت عثمانیہ (1308–1923)
سلوقی سلطنت (281 ق.م–246 ق.م)
سلطنت بطلیموس (246 ق.م–197 ق.م)
مملکت پیرگامون (190 ق.م–133 ق.م)
سلوقی سلطنت (197 ق.م–190 ق.م)
بازنطینی سلطنت (1100–1308)
Image سلجوقی سلطنت (1090–1100)
رومی جمہوریہ (130ء کی دہائی ق.م–27 ق.م)
Image ترکیہ [2]  ویکی ڈیٹا پر  (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[3]
تقسیم اعلیٰ سیلچوک   ویکی ڈیٹا پر  (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 37°56′23″N 27°20′55″E / 37.939722°N 27.348611°E / 37.939722; 27.348611   ویکی ڈیٹا پر  (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 614.76 ہیکٹر   ویکی ڈیٹا پر  (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر  (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 7522155  ویکی ڈیٹا پر  (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Image  ویکی ڈیٹا پر  (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نقشہ

افسس قدیم یونان کا ایک شہر جس کی بنیاد 10ویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی۔ یہ ایک مشہور بندرگاہ تھی۔ یہاں کے عیسائیوں کو 60 عیسوی میں پولس رسول نے ایک خط بھی لکھا تھا جو عہد نامہ جدید میں شامل ہے۔

مشہور شخصیات

[ترمیم]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. archINFORM location ID: https://www.archinform.net/ort/10360.htm — اخذ شدہ بتاریخ: 6 اگست 2018
  2. ناشر: امریکی نیومس میٹک سوسائٹی ، برٹش میوزیم ، گوئٹے یونیورسٹی فرینکفرٹ اور جامعہ اوکسفرڈ — Nomisma ID: https://nomisma.org/id/ephesus — اخذ شدہ بتاریخ: 15 جولا‎ئی 2024
  3. ویکی ڈیٹا پر ترمیم کریں"صفحہ افسس في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2026ء {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |accessdate= (معاونت) و|accessdate= میں 17 کی جگہ line feed character (معاونت)
  4. theephesus.com۔ "accessed September 30, 2013"۔ theephesus.com۔ 2020-08-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-10-30
  5. Lena Olausson؛ Catherine Sangster (2006)۔ Oxford BBC Guide to Pronunciation۔ Oxford, England: Oxford University Press۔ ص 120۔ ISBN:978-0-19-280710-6
  6. Michael Gagarin (2010)۔ The Oxford Encyclopedia of Ancient Greece and Rome۔ Oxford University Press۔ ص 2–۔ ISBN:978-0-19-517072-6۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-12۔ Historical Overview A Greek city-state on the Aegean coast of Asia Minor, at the mouth of Cayster River (Küçük Menderes), Ephesus ...
  7. Carlos Ramirez-Faria (1 جنوری 2007)۔ Concise Encyclopeida Of World History۔ Atlantic Publishers & Dist۔ ISBN:978-81-269-0775-5۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-12
  8. J. David Hawkins (2009)۔ "The Arzawa letters in recent perspective"۔ British Museum Studies in Ancient Egypt and Sudan۔ ص 73–83۔ 2012-02-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-12
  9. Sharon R. Steadman؛ Gregory McMahon؛ John Gregory McMahon (15 ستمبر 2011)۔ The Oxford Handbook of Ancient Anatolia: (10,000-323 BCE)۔ Oxford University Press۔ ص 366 and 608۔ ISBN:978-0-19-537614-2۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-12۔ In the case of such settlements as Miletus and Ephesus, as implied, the Greeks chose the sites of former Anatolian cities of prominence
  10. Jerome Murphy-O'Connor (2008)۔ St. Paul's Ephesus: Texts and Archaeology۔ Liturgical Press۔ ص 131۔ ISBN:9780814652596
  11. J. W. Hanson (2011)۔ "The Urban System of Roman Asia Minor"۔ Settlement, Urbanization, and Population۔ Oxford Studies on the Roman Economy۔ Oxford, England: Oxford University Press۔ ج 2۔ ص 253۔ ISBN:9780199602353 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-first= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-last= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-first= رد کیا گیا (معاونت)، ونامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-last= رد کیا گیا (معاونت)
  12. J. W. Hanson (2011)۔ "The Urban System of Roman Asia Minor"۔ Settlement, Urbanization, and Population۔ Oxford Studies on the Roman Economy۔ Oxford, England: Oxford University Press۔ ج 2۔ ص 258۔ ISBN:9780199602353 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-first= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-last= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-first= رد کیا گیا (معاونت)، ونامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-last= رد کیا گیا (معاونت)
  13. J. W. Hanson (2011)۔ "The Urban System of Roman Asia Minor"۔ Settlement, Urbanization, and Population۔ Oxford Studies on the Roman Economy۔ Oxford, England: Oxford University Press۔ ج 2۔ ص 252–257۔ ISBN:9780199602353 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-first= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-last= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-first= رد کیا گیا (معاونت)، ونامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-last= رد کیا گیا (معاونت)
  14. Simon Price (2011)۔ "Estimating Ancient Greek Populations"۔ Settlement, Urbanization, and Population۔ Oxford Studies on the Roman Economy۔ Oxford, England: Oxford University Press۔ ج 2۔ ص 18۔ ISBN:9780199602353 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-first= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری1-last= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-first= رد کیا گیا (معاونت)، ونامعلوم پیرامیٹر |مرتب آخری2-last= رد کیا گیا (معاونت)










بیرونی روابط

[ترمیم]